ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ٹیکس چوری کے لیے بہت سی ہندوستانی کمپنیوں نے کی ماریشس راستے سے سرمایہ کاری:آئی سی آئی جے

ٹیکس چوری کے لیے بہت سی ہندوستانی کمپنیوں نے کی ماریشس راستے سے سرمایہ کاری:آئی سی آئی جے

Tue, 23 Jul 2019 22:10:06    S.O. News Service

نئی دہلی، 23 جولائی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) ریلی گیئر انٹرپرائز لمیٹڈ (آرای ایل)، پونے کی کوٹلے پاٹل ڈویلپرز لمیٹڈ (کے پی ڈی ایل)، جندل سٹیل اینڈ پاور، اپالو ہاسپٹلس، جی ایم آر وغیرہ ان کمپنیوں کی فہرست میں شامل ہیں جنہوں نے ٹیکس چوری کے لئے ماریشس کے راستے ہندوستان میں سرمایہ کاری کی اور اس طرح دہرا قرارمعاہدہ (ڈی ٹی اے اے) کا فائدہ اٹھایا۔انٹرنیشنل کنسورٹیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس (آئی سی آئی جے) اور دی انڈین ایکسپریس اخبار کی طرف سے مشترکہ طور پر کی گئی ایک تحقیقات میں یہ انکشاف ہوا ہے۔آئی سی آئی جے وہی ادارہ ہے جس نے پانامہ پیپر کی طرح بہت سے سنسنی خیز انکشافات کئے ہیں۔ماریشس راستہ کا مطلب یہ ہے کہ ہندوستانی کمپنیاں ماریشس کسی کثیر القومی کمپنی سے سمجھوتہ کرکے ہندوستان میں ایف ڈی آئی سے فنڈ منگوا لیتی ہیں اور اس طرح سے وہ کیپٹل گینس ٹیکس دینے سے بچ جاتی ہیں۔ہندوستان اور ماریشس حکومت کے درمیان پہلے دہرے معاہدے کے تحت ماریشس سے آنے والی اس سرمایہ کاری پر ہندوستان میں کوئی ٹیکس نہیں دینا ہوتا تھا۔آئی سی آئی جے نے قانونی فرم کنیرس ڈل کے اینڈ پییرمین کے اعداد و شمار کے مطالعہ سے یہ معلومات جمع کی ہے۔یہ قانونی فرم باھا ماس اور ماریشس میں سرگرم ہے،اس کی دنیا بھر کئی اہم کمپنیوں گاہک ہیں۔رپورٹ کے مطابق ہندوستانی کمپنیوں نے 1982 میں ہوئے اس معاہدے کا غلط استعمال کیا ہے۔اس معاہدے کے مطابق ہندوستانی کمپنیوں کو ماریشس میں ٹیکس ریزیڈینسی کی سہولت مل جاتی ہے اور اس طرح سے زیرو کیپٹل گینس والی زمرے میں آ جاتی تھیں۔اس معاہدے کا فائدہ اٹھا کر بہت سی کمپنیاں راؤنڈ ٹرپ سے اپنی سرمایہ کاری واپس ہندوستان لے کر آئیں اور اس طرح ہندوستان میں کیپٹل گینس ٹیکس سے بچ گئی ہیں۔اس کی وجہ سے ہی حکومت کو سال 2016 میں قوانین میں تبدیلی کرکے ماریشس سے آنے والی سرمایہ کاری پر بھی ’کیپٹل گینس ٹیکس‘ لگانا پڑا۔اس سہولت کی وجہ سے ہی ایک وقت ماریشس کا درجہ ہندوستان میں سب سے زیادہ ایف ڈی آئی کرنے والے ملک کے طور پر ہو گیا تھا لیکن سال 2016 سے اس سرمایہ کاری میں کمی آنے لگی۔رپورٹ کے مطابق مالی سال 2019 میں ہی ماریشس سے ہندوستان آنے والے ایف ڈی آئی میں 44 فیصد کی کمی آئی ہے۔
 


Share: